میانوالی صوبہ پنجاب کا ایک قدیم شہر ہے جہاں کے لوگوں کی عام بول چال کی زبان سرائیکی ہے یہاں شعرو شاعری اور رقص،میوزک کو بہت سراہا جاتا یے میانوالی کے لوگوں کی زبان بہت میٹھی ہے اور دوستی ہو یا دشمنی قیامت تک نبھاتے ہیں یہاں کے لوگوں کا رہن سہن بہت سادہ ہےیہاں تک کے انکی سوچ اور دماغ بھی سادہ اور آزادی کے دور والا ہےیہاں کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتےہیں اور خالص غذاءیں کھاتے ییں یہاں کے 90%لوگوں میں پرانی سوچ پائ جاتی ہے اس دور جہالت کی سوچ جہاں عورتوں کا کام صرف نسل بڑھانا اور گھر کے کام کاج کرنا تھا صرف اپنی محدود سوچ اور پرانے نقطہ نظر کی وجہ سے یہ لوگ پیچھے ہیں میانوالی میں دو قومیں بہت مشہور ہیں اک ملک اور دوسری نیازی جنکی ایک دوسرے سے نہیں بنتی نیازیوں کے خون میں قتل وغارت اور انا جیسے عوامل کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں یہاں کی زیادہ تر عوام ڈگریاں لے کر گھر بیٹھی ہوئ ہے بعض نوکری کرنے کو غلامی سمجھتے ہیں اور ان میں سے بعض نوکری نہ لگنے کی وجہ سے گھر سے باہر نکلتےہی نہیں اور کچھ شہزادے تو سارا دن مرغے لڑواتے رہتے ہیں جیب اچ پیسے ہون نہ ہوون کاٹن دا سوٹ ،تلے آلی کھیڑی ہتھ اچ دو نالی تے تلے یاما ضرور ہوسی شکار ،جوا اور کتوں کی ریس پر کچھ لوگ اپنا پیٹ پالتے ہیں اور کوئ منشیات بیچ کر نوجوانوں میں خون کی کمی کو پورا کرواتےہیں تو کوئ سٹے لگا کر بازی لےجاتے ہیں ہی نہیں یہاں کے لوگ بہت محنتی بھی ہیں چرس ،پوڈر افیم کا کاروبار کرنے کیلۓ اپنی جان اور 30% داو پر لگا دیتے ہیں یہاں عورتوں کو ویسا مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ قابل ہیں انکے پیچھے رہنے کی وجہ کچھ یہ بھی ہے اگر بات کریں قانون کی تو وہ انکے گھر کی لونڈی ہے اگر آپکے پاس پیسہ ہے اور آپ کا اٹھنا بیٹھنا کسی مافیہ کے ساتھ ہے تو پھر بس پولیس اور قانون آپکے ہاتھ میں ہیں پھر چاہے آپ 302 کے ملزم ہی کیوں نہ ہوں عزت اور غیرت کے نام پرسرے عام قتل ہو جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں یہاں کے ہسپتالوں کا نظام دیکھا جائے اگر تو نوجوان قتل ہو کر دروازے پر پڑے رہتے ہیں جب تک پولیس نہ آۓ ایمبولنس والے ہاتھ تک نہیں لگاتے پھر چاہے مرنے والا بے قصور ہی کیوں نہ ہو سرکاری ڈاکٹروں کی بات کی جاۓ اگر تو ما شاء اللّٰہ اتنے قابل اور ولی ہیں کے بغیر چیک کیۓ یہ بتا سکتے ہیں کہ انکی روح پنڈی میں قبض ہوگی
پیدا ہوتے ہی جنکو بدلہ لینا سکھایا جاۓ اور عورتوں کو دبانا ایسی نوجوان نسل کیا ترقی کرے گی جہاں دوسرے کو قتل کرنا اپنی شان و شوکت میں اضافہ لگتا ہو ایسا شہر کیسے ترقی کرے گا جہاں کے لوگ جاہل ہوں
اگر بات کی جاۓ تعلیمی نظام کی تو یہاں کے بچے بچیاں بہت ذہین اور ہنرمند ہیں مگر پھر وہی بات آجاتی ہے کہ نقطہ نظر بہت تنگ ہے یہاں عوام کی سہولت کے لئے یونیورسٹی تو بنا دی گئی مگر زہن میں مدرسہ کا تصور رکھ کر یہاں دو لڑکا اور لڑکی آپس میں بات کرلیں گے تو انکا تعلق مشہور ہوجاتا ہے اور اگر کسی رشتہ دار کے بچوں نے دیکھ لیا توبس اگلے دن وہ لڑکی نظر نہیں آۓ گی اور ایک ماہ کے اندر اندر اسکی شادی خانہ آبادی ہو جاۓ گی اور ساری زندگی ایک شاندار قسم کا تمغہ اسکے سر پر لگایا جاۓ گا جب یہاں کے استاد ہی سکھانے کی بجاۓ ان کو تنکیدی نگاہ سے دیکھیں گے تو بچے کیا سیکھیں گے جب یونیورسٹی کے پہلے دن ہی یہ بات بتائ جاۓ کے لڑکے کوئ اور مخلوق ہیں ان سے دور رینا چاہیے بجاۓ انکے دماغوں میں ایسے تصور ڈالنے کے یہ سمجھایا جاۓ کہ لڑکیاں آپکی عزت ہیں بجاۓ انہیں کمزور کہنے کے یہ بتایا جاے کہ وہ اللّٰہ کی نازک مخلوق ہیں جنہیں عزت دی جاتی ہے تو مجھے نہیں لگتا اس قسم کے واقعات بنتے جہاں کٹھا پڑھنا کوئ اعلیٰ درجہ کا گناہ ہے اور بات کر لینا شرک یونیورسٹی کی تعلیم کا مقصد ایک بڑے پیمانے ہر کردار او شخسصیت کو سنوارنا ہے اور نکھار پیدا کرنا ہے نہ کے لڑکا اور لڑکی کا کٹھے پڑھنا۔ یہاں آزاد ماحول کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کسی فنکشن پر استاد اگر ناچ رہے ہیں تو وہ جاہل ہیں جاہل وہ نہیں ہماری اپنی سوچ ہے آزادی کامطلب وہ ہرگز نہیں جو ہم سمجھتے ہیں ان کا مقصد صرف یہ شعورپیدا کرنا ہے کہ کل کو آپ 4 مردوں میں کھڑی ہو کر بول سکیں اور لڑکے 4 عورتوں سے کیسے پیش آنا ہےاور کیسے دیکھنا ہے یہ شعورپیدا ہو جاۓ آفس،سکول،بینک نیز ہر ادارے میں مرد و عورت کٹھا کام کرتے اور اٹھتے بیٹھتے ہیں تو یونیورسٹی میں کیوں نہیں؟ بجاۓ کسی ادارے کے مردوں اور عورتوں کے کرداروں پر انگلیاں اٹھانے کے وہی شہادت کی انگلی نمازمیں وحدہ لاشریک ذات کے نام پر اشہد الله الااللہ کے وقت شیطان کو تکلیف دینے کیلئے اور زیادتی کے خلاف اٹھائ جاۓ تو زیادہ بہتر ہے نہ کے کسی معصوم کے کردارپر
(شکریہ)
انت الحیاۃ